22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فائل فوٹو۔
سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فائل فوٹو۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدے کو کالعدم قرار دیدیا ہے۔ عدالت نے تئیس جولائی انیس سو ترانوے میں ہونے والے اس معاہدے کو ملکی قوانین سے متصادم قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریکوڈک گولڈ مائنز کیس کا سولہ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں سونے اور دیگر معدنیا کے ذخائر کی تلاش کے معاہدے کو کالعدم قرار دیدیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے منرل رولز اور ملکیت کی منتقلی کے قوانین کے خلاف ہے۔

فیصلے کے مطابق معاہدے میں کی گئی تمام ترامیم بھی غیرقانونی اور معاہدے کے منافی تھیں۔

تئیس جولائی انیس سو ترانوے کو غیرملکی کمپنی سے ہونے والے اس معاہدے کیخلاف پانچ سال تک کیس عدالت میں زیرسماعت رہا۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس گلزار اور جسٹس اجمل سعید شیخ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس کیس کا فیصلہ سولہ دسمبر کو محفوظ کیا تھا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے غیرملکی کمپنی ٹی سی سی کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کیلئے منظور کرلی ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے سے متعلق ٹیتھیان کمپنی کا اب کوئی حق باقی نہیں رہا۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب مشہور علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کونکالنے کامنصوبے کانام ریکوڈک ہے۔

جولائی انیس سو ترانوے میں وزیراعلی بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کاٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔

تینتیس لاکھ سینتالیس ہزار ایکٹر پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر  مزید کام کرنے کے لیے  اطالوی کمپنی  ٹیتھیان  سے معاہدہ کر لیا اور کوشش کی کہ گودار پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف پچیس فیصد حصہ ملنا تھا۔

بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

بلوچستان حکومت نے دوہزار دس میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ریکوڈک سے روزانہ پندرہ ہزار ٹن سونا اورتانبا نکالاجاسکتا ہے جس کے صوبے کوسالانہ اربوں ڈالر آمدنی ہوگی۔۔ ریکوڈک معاہدہ پرمختلف این جی اوز اور ماہرین کےساتھ سول سوسائٹی بھی سوال اٹھاتی رہی تھی۔ خود وزیراعلی اسلم رئیسانی نے چھ نومبردوہزار بارہ کو ایک بیان میں کہا تھا ریکوڈک کی وجہ سے مخصوص قوتیں انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی

عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے اسپیکر کےدفتر میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔

قوم افراتفری پھیلانے والوں کو نظر انداز کرے، صدر

صدر ممنون حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپس کی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کی وجہ سے قومی ترقی کا عمل نہ روکا جائے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔