18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نئے امریکی سیکریٹری دفاع اور سی آئی اے سربراہ نامزد

امریکی صدر بارک اوباما سیکریٹری دفاع اور سی آئی اے سربراہ کیلیے نامزدگیوں کا اعلان کر رہے ہیں، ان کے برابر میں نامزد امیدوار چک ہیگل اور جان برینن موجود ہیں۔ فوٹو اے پی۔۔۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر بارک اوباما نے سابق سینیٹر ری پبلیکن سینیٹر چک ہیگل کو سیکریٹری دفاع اور انسداد دہشت گردی کے مشیر جان برینن کو سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) کے سربراہ کے عہدے کیلیے نامزد کر دیا ہے۔

ہیگل کو کانگریس میں ری پبلک ارکان کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ ہیگل اسرائیل مخالف اور ایران کیلیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

سی آئی اے میں 25 سال سے ملازمت پر مامور برینن نے جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں سی آئی اے کے متنازع تفتیشی طریقہ کار اور اس میں ان کے کردار پر شدید تنقید کیے جانے پر 2008 میں سی آئی اے کا سربراہ بننے سے انکار کردیا۔

امریکی صدر بارک اوباما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیگل پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ ہیگل اچھی طرح یہ بات جانتے امریکا اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی صورت میں ہی مضبوط ہو سکتا ہے۔

ہیگل جنہوں نے عراق جنگ میں اپنی پارٹی ری پبلیکن پر شدید تنقید کی تھی اور اسکے بعد اپنی پارٹی سے تعلق توڑ لیا تھا، کے بارے میں اوباما نے کہا کہ اس عمل کی وجہ سے مجھ سمیت قومی سلامتی اور فوجی رہنما، ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس ان کی نہایت عزت کرتے ہیں۔

انہوں نے ہیگل کو امریکی محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی نیشنل سیکیورٹی کی ٹیم میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

ترکی میں عدالت کا یوٹرن، یوٹیوب پر دوبارہ پابندی عائد

ترکی میں عدلیہ نے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر پابندی ختم کرنے کے سابقہ فیصلے کو واپس لیتے ہوئے دوبارہ پابندی لگا دی۔

اقوامِ متحدہ کے لیے ایرانی سفیر کو ویزہ دینے سے امریکا کا انکار

سفارتکار حامد ابوطالبی کا تعلق اس گروپ سے بتایا جارہا ہے، جس نے 1979ء میں امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنایا تھا۔

امریکی خاتون نے ہلیری کلنٹن پر پھینکا جوتا

چھیاسٹھ سالہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ جوتے کی زد سے محفوظ رہیں، اور انہوں نے اس واقعے کو مزاحیہ انداز میں لیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے