23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہزارہ برادری کو تحفظ دیا جائے،الطاف حسین

 - اے پی پی فوٹو
- اے پی پی فوٹو

کراچی:  متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، ہفتہ کو الطاف حسین نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیرداخلہ رحمن ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کا مسلسل قتل عام کیا جارہا ہے لیکن انہیں تحفظ فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہے بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں 100 افرادکی ہلاکت پر کوئی حکومتی شخصیت متاثرین سے اظہار ہمدردی کیلئے نہیں پہنچی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ملک سے باہر اور وزراء غائب ہیں، ہزارہ کمیونٹی کے افراد اپنے پیاروں کی میتیں سڑک پر رکھ کر سخت سردی اور بارش کے باوجود رات بھر احتجاج کرتے رہے۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ صوبائی حکومت نے اس پر بالکل بھی کوئی توجہ نہیں دی اور مسئلے کا حل نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے وزیراعظم اور وفاقی وزیرداخلہ سے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتی تو اس مسئلے کا متبادل حل نکالا جائے۔

الطاف حسین نے مزید کہا کہ اتنے بڑے سانحہ پر مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کرنے پر حکومت بلوچستان سے پوچھا جائے۔

اس حصے سے مزید

دو سال کے لیے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے، الطاف حسین

لندن میں گورنر پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران متحدہ کے قائد نے کہا کہ ثالثی کے لیے چوہدری سرور مناسب شخصیت ہیں۔

پیپلزپارٹی ایم پی اے کا گن پوائنٹ پر استعفی لینے کا الزام

پروین جونیجو نے گزشتہ برس کے عام انتخابات میں دادو سے پی ایس 76 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

خواتین پولیس کیلیے ہزار بلٹ پروف جیکٹس کی امریکی امداد

امریکی حکومت کی جانب سے سندھ پولیس کو دی گئی امداد میں چھ گاڑیاں، ایک ہزار بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی شامل ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-