02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رحمان ملک نے لانگ مارچ کو جمہوریت کش حملہ قرار دیدیا

وزیر داخلہ رحمان ملک صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو آن لائن۔۔۔

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے طاہر القادری کا لانگ مارچ کو جموریت کش حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طاہر القادری پر حملہ ہوا تو اس کی ذمے حکومت نہیں، خود طاہر القادری ہوں گے۔

لاہور رائے وانڈ میں مسلم لیگ ن کے قائد  میاں نواز شریف کے بھائی کی تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ  طاہرالقادری کے پاس لانگ مارچ کے لیے فنڈز کہاں سے آئے، مارچ کون کروا رہا اور اس کےمقاصد کیا  ہیں اور  یہ سب کچھ کس کے کہنے پر کروایا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی عوام کو بتا دیں ورنہ ایف آئی اے تحقیقات کا حق رکھتی ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ طاہرالقادری کا ایجنڈا سمجھ سے باہرہے، وہ لانگ مارچ کر کے  سانحہ کوئٹہ، کراچی اور سوات جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ لانگ مارچ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیرداخلہ  نے کہا  کہ لاکھوں لوگوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں کمبل لانے والے لوگ ہینڈ گرینیڈ بھی لا سکتے ہیں۔

رحمن ملک  نے یہ بتایا کہ ہمارے پاس  اطلا عات ہیں اور تحریک   طالبان کے ترجمان احسان نے بھی کہا ہے کہ  وہ  قافلوں پر حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ طاہرالقادری کی جان کوخطرہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر قادری پر حملہ ہوا تو اسکی ذمے دار حکومت نہیں بلکہ وہ خود ہوں گے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔