28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رحمان ملک نے لانگ مارچ کو جمہوریت کش حملہ قرار دیدیا

وزیر داخلہ رحمان ملک صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو آن لائن۔۔۔

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے طاہر القادری کا لانگ مارچ کو جموریت کش حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طاہر القادری پر حملہ ہوا تو اس کی ذمے حکومت نہیں، خود طاہر القادری ہوں گے۔

لاہور رائے وانڈ میں مسلم لیگ ن کے قائد  میاں نواز شریف کے بھائی کی تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ  طاہرالقادری کے پاس لانگ مارچ کے لیے فنڈز کہاں سے آئے، مارچ کون کروا رہا اور اس کےمقاصد کیا  ہیں اور  یہ سب کچھ کس کے کہنے پر کروایا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی عوام کو بتا دیں ورنہ ایف آئی اے تحقیقات کا حق رکھتی ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ طاہرالقادری کا ایجنڈا سمجھ سے باہرہے، وہ لانگ مارچ کر کے  سانحہ کوئٹہ، کراچی اور سوات جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ لانگ مارچ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیرداخلہ  نے کہا  کہ لاکھوں لوگوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں کمبل لانے والے لوگ ہینڈ گرینیڈ بھی لا سکتے ہیں۔

رحمن ملک  نے یہ بتایا کہ ہمارے پاس  اطلا عات ہیں اور تحریک   طالبان کے ترجمان احسان نے بھی کہا ہے کہ  وہ  قافلوں پر حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ طاہرالقادری کی جان کوخطرہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر قادری پر حملہ ہوا تو اسکی ذمے دار حکومت نہیں بلکہ وہ خود ہوں گے۔

اس حصے سے مزید

کے پی اور فاٹا میں آج عید منائی جارہی ہے

پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں نمازِ عید کے اجتماعات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں فوج کی طلبی، سیاسی جماعتوں کی مخالفت

خیبر پختونخوا میں قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں مارشل لاء کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

خضدار: گریشہ میں دھماکا، سات افراد زخمی

دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو گریشہ سے ضلع خضدار کے سول ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

اخلاقیات: غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے

اگر آج پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 5 فی صد بھی ہے تو 20 کروڑ کے ملک میں یہ ایک کروڑ پاکستانی بنتے ہیں۔