17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

رحمان ملک نے لانگ مارچ کو جمہوریت کش حملہ قرار دیدیا

وزیر داخلہ رحمان ملک صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو آن لائن۔۔۔

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے طاہر القادری کا لانگ مارچ کو جموریت کش حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طاہر القادری پر حملہ ہوا تو اس کی ذمے حکومت نہیں، خود طاہر القادری ہوں گے۔

لاہور رائے وانڈ میں مسلم لیگ ن کے قائد  میاں نواز شریف کے بھائی کی تعزیت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ  طاہرالقادری کے پاس لانگ مارچ کے لیے فنڈز کہاں سے آئے، مارچ کون کروا رہا اور اس کےمقاصد کیا  ہیں اور  یہ سب کچھ کس کے کہنے پر کروایا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی عوام کو بتا دیں ورنہ ایف آئی اے تحقیقات کا حق رکھتی ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ طاہرالقادری کا ایجنڈا سمجھ سے باہرہے، وہ لانگ مارچ کر کے  سانحہ کوئٹہ، کراچی اور سوات جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ لانگ مارچ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیرداخلہ  نے کہا  کہ لاکھوں لوگوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں کمبل لانے والے لوگ ہینڈ گرینیڈ بھی لا سکتے ہیں۔

رحمن ملک  نے یہ بتایا کہ ہمارے پاس  اطلا عات ہیں اور تحریک   طالبان کے ترجمان احسان نے بھی کہا ہے کہ  وہ  قافلوں پر حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ طاہرالقادری کی جان کوخطرہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر قادری پر حملہ ہوا تو اسکی ذمے دار حکومت نہیں بلکہ وہ خود ہوں گے۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔

وزیراعظم کی زرداری کو پی پی او میں ترمیم کی یقین دہانی

نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں ملکی سلامتی اور دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟