19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

وزیراعظم کو گرفتار کرنے کیلیے ثبوت ناکافی ہیں، نیب چئرمین

سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو
سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے رینٹل پاور کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے نیب کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تیئیس جنوری کو رینٹل پاور سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت کی۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ تمام ریکارڈ ڈی جی نیب راولپنڈی کے پاس ہے، انہیں ہدایت کردی ہے کہ ریکارڈ رجسٹرار آفس میں جمع کرائیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کو مذاق بنالیا گیا ہے، ریکارڈ رجسٹرار کے بجائے عدالت میں جمع کرائیں۔

چیئرمین نیب نے اس حوالے سے عدالت سے تحریری حکم جاری کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکم پہلے ہی دیا جا چکا، آپ جا کر ریکارڈ لائیں جس پر چادروں اور بوریوں میں بندھا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا گیا۔

چیئرمین نیب نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ افسران نے نامکمل رپورٹ کیسے جمع کرائی۔

عدالت نے عبوری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تئیس جنوری کو رینٹل پاور سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس افتخار نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے رینٹل پاور کیس میں ملزمان کو کلین چٹ دی اور ریفرنس دائر نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ تفتیش میں مداخلت نہیں کی گئی۔

جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کو چھ مرتبہ ریفرنس دائر کرنے کیلئے ٹائم فریم دینے کا کہا، جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ ریفرنس دائر کرنے کیلئے ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ادارہ کے سربراہ کے طور پر چیئرمین نیب عدالت کو جوابدہ ہیں تو چیئرمین نیب نے کہا کہ تفتیشی افسران کی عبوری رپورٹ مکمل نہیں تھی، اس کیلئے وہ جوابدہ نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرپشن تحقیقات میں ملوث ملزمان مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور عدالتوں کو بدنام کرنے سے لے کر کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع تھی کہ غلط رپورٹ جمع کرانے پر تفتیشی افسران سے پوچھا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2008 میں حکومت اور کرائے کے بجلی گھروں کے درمیان تمام معاہدوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔

ملزمان میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، لیاقت علی خان جتوئی، طارق حمید سابق سیکریٹری وزیر خزانہ شوکت ترین، سابق سیکریٹری پانی و بجلی شاہد رفیع، محمد اسماعیل قریشی اور اسحاق محمود، سابق سیکریٹری خزانہ سلمان صدیق، سابق چیئرمین نیپرا خالد سعید اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید الظفر اور دیگر اعلٰی بیورو کریٹ اور آر پی پیز کے مالکان شامل ہیں۔

اس حصے سے مزید

حکومت دیکھو اور انتطار کرو کی پالیسی سے مطمئن

وزیراعظم نے اپنی حد تک ہر ممکن بہترین کوششیں کرکے یہ صورتحال پیدا کی اور اب اپنی حکومت معمول کے مطابق چلارہے ہیں۔

یوم نجات کے لیے پی ٹی آئی اور انتظامیہ کی تیاریاں

یوم نجات منانے کے اعلان کے بعد سے پی ٹی آئی اور انتظامیہ نے طاقت کے اس مظاہرے کے لیے اپنی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے اعلان کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں کےسیاسی جرگےنےنوازشریف،عمران خان اورطاہرالقادری کوخط لکھاہےجس میں یہ مطالبہ کیاگیاہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔