23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

وزیراعظم کو گرفتار کرنے کیلیے ثبوت ناکافی ہیں، نیب چئرمین

سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو
سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے رینٹل پاور کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے نیب کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تیئیس جنوری کو رینٹل پاور سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت کی۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ تمام ریکارڈ ڈی جی نیب راولپنڈی کے پاس ہے، انہیں ہدایت کردی ہے کہ ریکارڈ رجسٹرار آفس میں جمع کرائیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کو مذاق بنالیا گیا ہے، ریکارڈ رجسٹرار کے بجائے عدالت میں جمع کرائیں۔

چیئرمین نیب نے اس حوالے سے عدالت سے تحریری حکم جاری کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکم پہلے ہی دیا جا چکا، آپ جا کر ریکارڈ لائیں جس پر چادروں اور بوریوں میں بندھا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا گیا۔

چیئرمین نیب نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ افسران نے نامکمل رپورٹ کیسے جمع کرائی۔

عدالت نے عبوری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تئیس جنوری کو رینٹل پاور سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس افتخار نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے رینٹل پاور کیس میں ملزمان کو کلین چٹ دی اور ریفرنس دائر نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ تفتیش میں مداخلت نہیں کی گئی۔

جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کو چھ مرتبہ ریفرنس دائر کرنے کیلئے ٹائم فریم دینے کا کہا، جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ ریفرنس دائر کرنے کیلئے ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ادارہ کے سربراہ کے طور پر چیئرمین نیب عدالت کو جوابدہ ہیں تو چیئرمین نیب نے کہا کہ تفتیشی افسران کی عبوری رپورٹ مکمل نہیں تھی، اس کیلئے وہ جوابدہ نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرپشن تحقیقات میں ملوث ملزمان مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور عدالتوں کو بدنام کرنے سے لے کر کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع تھی کہ غلط رپورٹ جمع کرانے پر تفتیشی افسران سے پوچھا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2008 میں حکومت اور کرائے کے بجلی گھروں کے درمیان تمام معاہدوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔

ملزمان میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، لیاقت علی خان جتوئی، طارق حمید سابق سیکریٹری وزیر خزانہ شوکت ترین، سابق سیکریٹری پانی و بجلی شاہد رفیع، محمد اسماعیل قریشی اور اسحاق محمود، سابق سیکریٹری خزانہ سلمان صدیق، سابق چیئرمین نیپرا خالد سعید اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید الظفر اور دیگر اعلٰی بیورو کریٹ اور آر پی پیز کے مالکان شامل ہیں۔

اس حصے سے مزید

زرداری-بائیڈن ملاقات پرافواہیں

ایک سماجی تقریب میں سابق صدر کے امریکی نائب صدر سےطے شدہ افطار- ڈنر کی خبروں نے سیاسی ماحول گرما دیا۔

'وزرائے اعلیٰ نجکاری عمل پر ہوشیار رہیں'

رضا ربانی نے چاروں وزرائے اعلیٰ کو ایک خط کے ذریعے صوبائی مفادات کے تحفظات کیلئے اقدامات اٹھانے کو کہا ہے۔

عمران خان لوگوں کو خدمت کی طرف راغب کریں، پرویز رشید

یہ وقت لانگ مارچ کا نہیں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔