15 ستمبر, 2014 | 19 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گلی اور محلہ

ریل کی سیٹی

ہندوستان کی سرزمین پہ سولہ اپریل 1853 کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ اس پار کے حوالے کیا ، اسی طرح ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس ، کلکتہ میل اور خیبر میل صرف ریل گاڑیوں کے نام نہیں بلکہ ہجر، فراق اور وصل کے روشن استعارے تھے۔

اب جب باؤ ٹرین جل چکی ہے اور شالیمار ایکسپریس بھی مغلپورہ ورکشاپ کے مرقد میں ہے، میرے ذہن کے لوکوموٹیو شیڈ میں کچھ یادیں بار بار آگے پیچھے شنٹ کر رہی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو میں نے ریل میں بیٹھ کر تو کبھی دروازے میں کھڑے ہو کر خود سے کی ہیں۔ وائی فائی اور کلاؤڈ کے اس دور میں، میں امید کرتا ہوں میرے یہ مکالمے آپ کو پسند آئیں گے۔


تصویری خاکہ ۔ — ماہ جبیں منکانی / ڈان۔ کام

 شہید اور شاہدرہ - I شہید اور شاہدرہ - II

شاہدرہ کی کہانی ریل کی پٹڑی سے کچھ جڑی اور کچھ علحدہ سی ہے۔ پہلے پہل اس جگہ کا نام باغ دلکشا تھا۔ مکین بدلتے گئے تو نام بھی بدل گیا ، اور اسے شاہدرہ باغ کہا جانے لگا البتہ پچھلے کچھ عرصے سے اسے شاہدرہ کہا جاتا ہے۔

ریلوے سٹیشن کی تختی پہ البتہ اب بھی شاہدرہ باغ ہی لکھا ہے۔ بستی تو کچھ تین چار سو سال پرانی ہے مگر ہر ایک نانک چندی اینٹ صدیوں کا قصہ کہتی ہے۔ اندر ہی اندر ایک دوسرے کو ڈھونڈھتی ہوئی گلیاں، بوڑھی عورتوں جیسی محبتوں اور کدورتوں سے یکساں بھرپور ہیں۔

شاہدرہ کی سرشت میں اتنا اختلاف ہے کہ نیچے کی منزل پہ ساس دیور سامنے والوں سے ہاتھ نہیں ملاتے اور اوپر کی منزل سے بہوئیں چوری چوری کڑھی کے ڈونگے ایک دوسرے کو بھجواتی ہیں، اس بات سے بے نیاز کہ سب سے اوپر والی چھت پہ لڑکی صرف بال نہیں سکھا رہی اور لڑکا صرف پتنگ نہین اڑا رہا۔ اس پوری صورتحال کا ادراک سارے گھر میں صرف اس بوڑھے دادے کو ہے جو اب بھی کان سے ریڈیو اور حقے سے ہونٹ لگائے بیٹھا ہے۔

چلے چلتے کان پڑی آواز سنائی دی۔ شاہدرہ شاہواں دا، لاہور بادشاہواں دا، پتہ لگا کہ مغل بادشاہ ہر وہ جگہ پسند کرتے تھے جو دریا کے کنارے آباد ہو۔ لاہور تو امور سلطنت نبٹانے کے لئے رکھ لیا گیا اور شاہدرہ کو آخری آرام گاہ کے طور پہ منتخب کر لیا۔

کچھ دیر تک تو یہ جگہ خاموش، پر فضا اور پر سکون رہی مگر اب اس کی وجہء شہرت یہاں کی رونق اور گہما گہمی ہے۔ ہندوستان بھر سے آئے لوگ جب صدیوں تک راوی کا پانی پی پی کر بعد ایک ہوئے تو ایک مخصوص ثقافت نے جنم لیا۔ اس میں لوہڑی کا جشن، بسنت کا رنگ، عیدین کی سرخوشی، رمضان کا اہتمام اور محرم کا احترام سب کچھ تھا۔

شاہدرہ کے لوگ ہر تہوار کو اپنے رنگ میں پورے جوش سے مناتے ہیں اور مناتے ہی چلے جاتے ہیں۔ محرم کی آمد ہو تو سارا شاہدرہ سیاہ پوش ہو کر حزن کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور عید میلاد پہ ایک سبز سی چادر اسے اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ بسنت میں آسمان رنگ کے سیلاب میں اٹ جاتا ہے ۔

مگر اب شاہدرہ بہت پھیل گیا ہے، مریدکے سے ادھر ادھر اور بیگم کوٹ کے پرے، رنگ روڈ کی سرحد اور نہر دریا کے پاس سب کا سب شاہدرہ ہے۔ میں نے ایک پرانے باسی سے پوچھا کہ اگر دوبارہ زندگی ملے تو کہاں رہو گے کہنے لگا کہ اس بار راوی کے پار، کیونکہ اس طرف ٹریفک بہت ہو گئی ہے۔

بادشاہوں کی گزر گاہ کے باعث اس قصبے کا نام شاہدرہ رکھا گیا۔ جب مقبروں اور مزاروں کی تعمیر شروع ہوئی تو بہت سے لوگ روزگار کے وسیلے ڈھونڈھتے یہاں تک آ پہنچے۔ پتھر کوٹنے والے آئے تو ان کے ساتھ محلہ سنگ تراشاں آباد ہو گیا، چھوٹی چھوٹی بات سے بڑے مطلب نکالنے والے یہ لوگ بلا کے نکتہ بین ہیں۔

محنت کش پٹھان آئے تو ان کے ساتھ محلہ ککے زئیاں آباد ہو گیا۔ ککے زئی عورتیں لڑنے میں اور دامادوں کی پوجا کرنے میں بہت آگے ہیں، تعلق کے تاگے سے مضبوط بندھے یہ لوگ آپس میں شادیاں کرتے ہیں اور حتی الامکان باہر نہیں نکلتے۔ ضرورتوں نے منہ کھولا تو ساہوکار بھی آ گئے اور محلہ گوجراں بھی آباد ہو گیا۔

عقیدت کے ماروں نے مندر بھی آباد کئے، گرودوارے بھی تعمیر کئے اور ایک پیر قندھاری شاہ کا محلہ بھی ہے۔ ترلوک شاہ کی گلی سے پیر چنگی کے محلے تک شاہدرہ کی کہانیاں ڈھوتے ڈھوتے قلم کی آہیں نکل گئی۔

اب جس جگہ شاہدرہ موڑ ہے اور شیخوپورہ سے آنے والی سڑک شاہدرہ کو جاتے ہوئے جرنیلی سڑک سے آڑی ہو کر ملتی ہے، اس علاقے کو پہلے لکھی شاہ کا چوک کہتے تھے۔ لکھی شاہ کا اصل نام اب کسی پرانی اینٹ کے نیچے دب گیا ہے۔ یا ان تنگ گلیوں میں کسی سرگوشی کی مانند دبکا پڑا ہے مگر پنجاب کے اس حصے میں رزمیہ گیت نہ لکھے جانے کی اصل وجہ لکھی شاہ ہے۔

لکھی شاہ اس علاقے کا بہت بڑا جاگیر دار تھا۔ کہتے ہیں جب پہلی جنگ عظیم لگی تو انگریزوں نے اسے طلب کیا اور فوج کے لئے جوان مانگے۔ لکھی شاہ نے پس و پیش کی تو انگریز نے جوان مہیا نہ کر سکنے کی صورت میں سزا کے طور پہ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ کرنے کی دھمکی دی۔

لکھی شاہ شاہدرہ کو بہت قریب سے جانتا تھا سو سوچنے کی مہلت لے کر واپس لوٹا۔ اس نے ایک لاکھ روپے کا بندوبست کیا اور انگریز سرکار کے حضور پیش کیا، لیفٹینینٹ گورنر نے لکھی شاہ سے اس قدر جلد فیصلے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ شاہدرہ کے لوگ اپنے بیوی بچوں سے دور نہیں رہ سکتے میں نے لوگوں کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا اور جرمانے کی رقم لے آ یا ہوں۔

پرانی گلیوں میں ترلوک شاہ کی گلی ایک ہندو آڑھتی کے نام پہ آباد تھی۔ کچھ تو ترلوک شاہ صاحب ثروت تھا اور کچھ اس زمانے میں ابھی فارن کرنسی اکاؤنٹ کا چکر نہیں چلا تھا سو سارے جمع جوڑ سے اس نے ایک بڑی سی حویلی بنائی ۔ حویلی کے ایک طرف ارجن سنگھ کی چکی تھی جس سے پورا شاہدرہ اناج لیتا تھا۔ پاس ہی پری محل تھا، جو کسی نے کسی کی یاد میں بنوایا تھا اور اب یادوں کے کھندڑ کی مانند ویران ہے۔ اس میں مکین تو بستے ہیں مگر کچھ اوپرے اوپرے سے۔

ترلوک شاہ کی حویلی پہنچے تو باہر بیٹھے ایک بوڑھے شخص نے حقے کی نے سے ہونٹ اٹھا ئے اور پرانے وقتوں کا قصہ شروع کیا۔

’’جب تقسیم ہوئی تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ ترلوک شاہ کی ماں کو پورا شاہدرہ بے جی کہتا تھا۔ حالات زیادہ بگڑے تو ترلوک شاہ نے ملٹری سے مدد مانگ لی۔ جس شام فوج نے آنا تھا اس دن سویرے ایک تانگہ شاہ عالمی سے آ کر رکا۔ تانگے کے تین سواروں نے آہستہ آہستہ کچھ مجمع اکٹھا کیا اور لوگوں کو پناہ گیروں کی داستان سنانا شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے محلے کے تیور بدلنا شروع ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہی تین لوگ ترلوک شاہ کی حویلی کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلے گئے۔ جب وہ نیچے آ ئے تو ان کے ہاتھوں میں بڑی بڑی بوریاں تھیں جو سکوں اور زیوروں سے بھری تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے حویلی کے اردگرد مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔‘‘

بوڑھے نے نے دوبارہ منہ سے لگا لی۔ ترلوک شاہ کی کہانی بھی تقسیم کی ان گنت کہانیوں میں سے ایک ہے، جس میں مسلمانوں کا دین، ہندوؤں کا مذہب اور سکھوں کا دھرم تو بچ گئے مگر انسانوں کی انسانیت سسک سسک کر دم توڑ گئی۔

مسافر چلنے لگا تو حقے کی نے سے دوبارہ آ واز آئی؛

’’اتنا وقت بیت گیا تم اب کیوں آئے ہو، میں نے بتایا کہ تقسیم کی کہانیاں لکھتا ہوں کہنے لگا پھر یہ بھی لکھو کہ آزادی اب پینسٹھ برس کی ہو گئی ہے مگر میں اب بھی بے جی کی اس آواز میں قید ہوں جو اس نے مجھے کوٹھے سے دی تھی۔ وہ روتی جاتی تھی اور ہمیں کہتی جاتی تھی، پتر تسی تے ترلوک دے یار ہو۔۔۔۔‘‘


مصنف وفاقی ملازم ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

اس حصے سے مزید

آئی ایم بی اجلاس: کیا پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رہیں گی؟

اس ضمن میں پولیو پروگرام کی نیشنل کوآرڈینیٹر عائشہ رضا کا کہنا ہے کہ وہ لندن کے اجلاس میں پاکستان کا دفاع کریں گی۔

راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی الٹنے سے 13 افراد زخمی

اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

وزیر قانون اور آئی جی پنجاب کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریوں سے عدالتی حکم کی توہین ہوئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Koi-Kon
21 جنوری, 2013 18:51
Reblogged this on KOI KON and commented: Gali Aur Muhallah
Gulbaz Mushtaq
22 جنوری, 2013 13:01
Wah Sir G? Simply Great Great Great. But where is English version?
Khan of Kalabagh
13 مارچ, 2013 05:34
Somewhere we lost our Right to be called as HUMAN, specially during the partition and afterwards. The tolerance and mutual respect that used to be the hallmark of this region for milliniums was lost in no time, the great work done by the Sufis was destroyed by our greed and insensitivities..... i hope and pray that we must get back to our roots, its the need of the hour.
گلزیب انجم
25 مئ, 2013 07:53
ویری نایس اپ کا انداز دل کو چھو لیتا ہے، کیا اپ ہماری رہنمای لکہای کے سلسلے میں کر سکتے ہیں
مقبول ترین
سروے
بلاگ

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔

ماضی کی جھلکیاں، میرانِ تالپورکے مقبرے

یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مزارات کافی خراب حالت میں ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت دیواریں منہدم ہوجائیں۔

ٹیم کو محمد حفیظ کی ضرورت ہے

ٹی-20 اور ون ڈے، دوںوں ہی میں وہ سب سے اچھے آل راؤنڈر ہیں، اور یہاں وہ پاکستان کے لیے اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔