02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'قادری کے دھرنے پر لال مسجد جیسا آپریشن زیر غور تھا'

پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین۔ فائل فوٹو۔۔۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین۔ فائل فوٹو۔۔۔

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے انکشاف کیا ہے کہ بعض حکومتی عہدیدار طاہر القادری کے دھرنے کے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرچکے تھے اگر مداخلت نہ کرتے تو اسلام آباد میں لال مسجد سے بڑا خون خرابہ ہوتا۔

منگل کو لاہور میں پریس کانفرنس میں چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ سولہ جنوری کو طاہر القادری کے دھرنے کے شرکا کے خلاف طاقت کے استعمال کا فیصلہ ہوچکا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ موقع کی نزاکت جانتے ہوئے انہوں نے مذاکرات کے لئے وزیراعظم سے خود بات کی تھی۔

چوہدری شجاعت نے کہا کہ طاہر القادری کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے مطابق شفاف انتخابات ہونگے۔

مسلم لیگ ق کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا کہ چوہدری شجاعت نے اسلام آباد معاہدے کے ذریعے ملک کو ایک بڑےسانحے سے بچالیا۔

چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے لئے اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری خود الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی جماعت الیکشن کا حصہ بنی تو ان سے انتخابی اتحاد کے متعلق ابھی کچھ نہیں سوچا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

'حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا'

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ قوم کو سیاسی بحران پر تشویش ہے اور وہ مسئلے کا فوری حل چاہتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔