20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لا پتہ افراد کیس: پشاور ہائی کورٹ میں اعلیٰ افسران کی طلبی

پشاور ہائی کورٹ فائل فوٹو

پشاور: منگل کے روز لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے سربراہان کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان نے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور ہوم سیکرٹریز کو 14 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 14 فروری کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان اداروں کے اعلی حکام کے خلاف کاروائی ہو گی  اور ان کی تنخواہیں بند کرنے سمیت دیگر مراعات بھی روک دی جائیں گی۔

جسٹس دوست محمد خان اور خاتون جسٹس ارشاد قیصر نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنائی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے سانحہ باڑہ کو نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر بااثر افراد دھرنا دے تو حکومت ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے مگر جب باڑہ متاثرین نے احتجاج کیا تو ان پر شیلنگ کی گئی اور ان کے میتوں کی بے حرمتی کی گئی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوم سیکرٹی علالت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہوم سیکرٹری تو علالت کے باعث نہیں آئے، ان کی جگہ متبادل افسر کیوں پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پورا صوبہ ہوم سیکرٹری چلا رہے ہیں تو اسمبلیاں کیا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے مذاق بند کیا جائے ۔

دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ جون سے ہم لاپتہ افراد کیس کی سماعت کر رہے ہیں مگر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

اس حصے سے مزید

خیبرایجنسی کے آئی ڈی پیز کی واپسی 23 ستمبر سے شروع

چھ ہزار آئی ڈی پیز خاندان کی خیبرایجنسی کے علاقے بار قمبرخیل کو واپسی کا سلسلہ 23 ستمبر سے شروع ہوجائے گا۔

مسلم لیگ ن کی 'گو عمران گو' مہم شروع کرنے کی دھمکی

رہنماﺅں اور کارکنوں کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب صابر شاہ نے غلطی سے 'گو نواز گو' کے نعرے لگادیئے۔

خیبرایجنسی: ریمورٹ کنڑول حملے میں تین شدت پسند ہلاک

اسی دوران بنوں کے علاقے ایف آر جانی خیل میں فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اب عمران خان کیا کریں گے؟

عمران خان انتخابی اصلاحات اور تحقیقات کی پیشکش کو تسلیم کر کے جیت سکتے تھے لیکن وہ مزید چیزیں داؤ پر لگائے جارہے ہیں۔

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

بلاگ

میں باغی ہوں

اس ملک میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہے- کسی کو قانون کا پاس نہیں- تبدیلی آئی تو سب کا احتساب ہوگا-

دھرنے، عوام اور امید کی ہار

یہ میچ بھلے ہی جتنا بھی عرصہ جاری رہے، پر اس میں کھیلنے والے اور دیکھنے والے سب ہی ہارنے والے ہیں۔

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔