22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

لا پتہ افراد کیس: پشاور ہائی کورٹ میں اعلیٰ افسران کی طلبی

پشاور ہائی کورٹ فائل فوٹو

پشاور: منگل کے روز لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے سربراہان کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان نے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور ہوم سیکرٹریز کو 14 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 14 فروری کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان اداروں کے اعلی حکام کے خلاف کاروائی ہو گی  اور ان کی تنخواہیں بند کرنے سمیت دیگر مراعات بھی روک دی جائیں گی۔

جسٹس دوست محمد خان اور خاتون جسٹس ارشاد قیصر نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنائی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے سانحہ باڑہ کو نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر بااثر افراد دھرنا دے تو حکومت ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے مگر جب باڑہ متاثرین نے احتجاج کیا تو ان پر شیلنگ کی گئی اور ان کے میتوں کی بے حرمتی کی گئی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوم سیکرٹی علالت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہوم سیکرٹری تو علالت کے باعث نہیں آئے، ان کی جگہ متبادل افسر کیوں پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پورا صوبہ ہوم سیکرٹری چلا رہے ہیں تو اسمبلیاں کیا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے مذاق بند کیا جائے ۔

دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ جون سے ہم لاپتہ افراد کیس کی سماعت کر رہے ہیں مگر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔

'جمہوریت کو نقصان پہنچا تو عمران، قادری ذمہ دار ہوں گے'

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔

قبائلی ٹریبیونل: ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کا ریکارڈ دوبارہ طلب

ڈاکٹر آفریدی کے وکیل کا کہنا ہے کہ قبائلی انتظامیہ مقدمے کو طول دینے کے لیے ریکارڈ پیش کرنے میں تاخیر کررہی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔