02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لا پتہ افراد کیس: پشاور ہائی کورٹ میں اعلیٰ افسران کی طلبی

پشاور ہائی کورٹ فائل فوٹو

پشاور: منگل کے روز لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے سربراہان کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان نے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور ہوم سیکرٹریز کو 14 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 14 فروری کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان اداروں کے اعلی حکام کے خلاف کاروائی ہو گی  اور ان کی تنخواہیں بند کرنے سمیت دیگر مراعات بھی روک دی جائیں گی۔

جسٹس دوست محمد خان اور خاتون جسٹس ارشاد قیصر نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنائی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے سانحہ باڑہ کو نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر بااثر افراد دھرنا دے تو حکومت ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے مگر جب باڑہ متاثرین نے احتجاج کیا تو ان پر شیلنگ کی گئی اور ان کے میتوں کی بے حرمتی کی گئی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوم سیکرٹی علالت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہوم سیکرٹری تو علالت کے باعث نہیں آئے، ان کی جگہ متبادل افسر کیوں پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پورا صوبہ ہوم سیکرٹری چلا رہے ہیں تو اسمبلیاں کیا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے مذاق بند کیا جائے ۔

دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ جون سے ہم لاپتہ افراد کیس کی سماعت کر رہے ہیں مگر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

کوہاٹ : ایک ہی خاندان کے 5 افراد قتل

نامعلوم افراد نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں میاں، بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہلاک ہوگیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔