02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

الیکشن کمیشن نے حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا

الیکشن کمیشن۔ - اے ایف پی فوٹو
الیکشن کمیشن۔ - اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری سے ملاقات کرنے والی حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا ہے۔

 طاہرالقادری کے ساتھ معاہدہ کرنے والی حکومتی ٹیم نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی درخواست کی تھی جو آج ہونے والے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

 ذرائع کے مطابق، درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے طاہرالقادری سے ملاقات کرنے والی حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا ہے۔

 حکومتی ٹیم الیکشن کمیشن کو طاہرالقادری کے ساتھ معاہدے پر بریفنگ دے گی۔

 اس سے قبل اجلاس میں دوہری شہریت، جعلی ڈگریوں اور کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور فہرستوں پر غور کیا گیا۔

 اس کے علاوہ اجلاس میں عام انتخابات کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔.

اس حصے سے مزید

سیاسی معاملات میں فوج کی مدد حاصل نہیں کریں گے، عمران خان

دوسری جانب پاک فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ وجودہ سیاسی بحران کے پیچھے نہیں ہے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی قائدین کو بغاوت کے مقدمے کا سامنا

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی قیادت کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

'مظاہرین جانتے تھے کہ وہ پی ٹی وی میں کیا کررہے ہیں'

یہ لوگ حیرت انگیز طور پر پی ٹی وی کے اہم دفاتر، مرکزی نیوز روم اور نیوز اسٹوڈیوز کے مقامات سے واقف تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔