30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

الیکشن کمیشن نے حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا

الیکشن کمیشن۔ - اے ایف پی فوٹو
الیکشن کمیشن۔ - اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری سے ملاقات کرنے والی حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا ہے۔

 طاہرالقادری کے ساتھ معاہدہ کرنے والی حکومتی ٹیم نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی درخواست کی تھی جو آج ہونے والے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

 ذرائع کے مطابق، درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے طاہرالقادری سے ملاقات کرنے والی حکومتی ٹیم کو کل بلا لیا ہے۔

 حکومتی ٹیم الیکشن کمیشن کو طاہرالقادری کے ساتھ معاہدے پر بریفنگ دے گی۔

 اس سے قبل اجلاس میں دوہری شہریت، جعلی ڈگریوں اور کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور فہرستوں پر غور کیا گیا۔

 اس کے علاوہ اجلاس میں عام انتخابات کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔.

اس حصے سے مزید

شیخ رشید، جمشید دستی بھی استعفے دیں، پی ٹی آئی اراکین کی شکایت

عمران خان شیخ رشید کو استعفے پر قائل کرنے میں ناکام رہے، ذرائع تحریک انصاف۔

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔