24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

طالبان کا کشمیرمیں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عزم

ترجمان تحریک طالبان پاکستان احسان اللہ احسان۔ فائل فوٹو۔۔۔

پشاور: پاکستانی طالبان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کشمیر میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ریاستی دہشت گردی رکوائے بصورت دیگر ٹی ٹی پی خود بھی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بدھ کے روز ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے حمایت یافتہ دہشت گردی کے ٹھکانوں سے متعلق ہندوستانی وزیر داخلہ کا بیان اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ معصوم کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کیلئے ہندو انتہا پسندوں کو ریاستی سرپرستی میں پالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "ہندوستانی وزیر کے بیان کے بعد امریکہ اور اقوام متحدہ کو ان ٹھکانوں پر ڈرون حملوں سمیت اتحادی افواج کے ذریعے چڑھائی کرنی چاھئیے۔"

احسن کا مزید کہنا تھا کہ، "اگر امریکہ اور اقوام متحدہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کی کاروائیاں نہیں رکواسکتے تو ٹی ٹی پی اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کام کو خود سرانجام دے سکے۔"

یاد رہے ہندوستانی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے اتوار کے روز اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی حمایتی آر ایس ایس پر ہندو دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انکے مطابق ان کاروائیوں کی وجہ سے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ سمیت مسلمانوں کیخلاف دوسرے واقعات رونما ہوئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن نے کشمیر میں موجودہ جہاد کو محظ ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کیلئے عملی جہاد کی ضرورت پر زور دیا۔

کشمیر میں دیشت گردی کے ٹھکانوں پہ حملوں کے آغاز کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ، "جلد ہی سب جان جائینگے کہ ٹی ٹی پی کتنی باصلاحیت ہے اور کسطرح ریاستی دہشت گردی اور ہندو شدت پسند تنظیموں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔"

اس حصے سے مزید

نواز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات

سعودی عرب مسلم دنیا میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم نواز شریف۔

نندی پور پلانٹ محض پانچ دن فعال رہا

پلانٹ نے ان پانچ دنوں میں ڈیزل پر ریکارڈ 42 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی، حکام۔

زرداری-بائیڈن ملاقات میں اہم معاملات پر گفتگو

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن، پاک-امریکا تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Gharib
23 جنوری, 2013 21:26
TTP ke salahiyat ke baare main sub jaante hain. Un ko Pakistan main aahista aahista mithaaya jaa raha hain aur apna zinda rehne ke lye, Kashmir ke peeche padna chaahte hain. Al Qaida par bhee Afghanistan se nikal jaane ke baad aise hee hua tha aur woh hamaare mulk main aa kar chup bhee gaye aur hum par badbakhtiyan bhee laaya. Ab TTP bhee Kashmir main wahee karna chaahta hai.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔