02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

طالبان کا کشمیرمیں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عزم

ترجمان تحریک طالبان پاکستان احسان اللہ احسان۔ فائل فوٹو۔۔۔

پشاور: پاکستانی طالبان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کشمیر میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ریاستی دہشت گردی رکوائے بصورت دیگر ٹی ٹی پی خود بھی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بدھ کے روز ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے حمایت یافتہ دہشت گردی کے ٹھکانوں سے متعلق ہندوستانی وزیر داخلہ کا بیان اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ معصوم کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کیلئے ہندو انتہا پسندوں کو ریاستی سرپرستی میں پالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "ہندوستانی وزیر کے بیان کے بعد امریکہ اور اقوام متحدہ کو ان ٹھکانوں پر ڈرون حملوں سمیت اتحادی افواج کے ذریعے چڑھائی کرنی چاھئیے۔"

احسن کا مزید کہنا تھا کہ، "اگر امریکہ اور اقوام متحدہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کی کاروائیاں نہیں رکواسکتے تو ٹی ٹی پی اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کام کو خود سرانجام دے سکے۔"

یاد رہے ہندوستانی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے اتوار کے روز اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی حمایتی آر ایس ایس پر ہندو دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انکے مطابق ان کاروائیوں کی وجہ سے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ سمیت مسلمانوں کیخلاف دوسرے واقعات رونما ہوئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن نے کشمیر میں موجودہ جہاد کو محظ ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کیلئے عملی جہاد کی ضرورت پر زور دیا۔

کشمیر میں دیشت گردی کے ٹھکانوں پہ حملوں کے آغاز کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ، "جلد ہی سب جان جائینگے کہ ٹی ٹی پی کتنی باصلاحیت ہے اور کسطرح ریاستی دہشت گردی اور ہندو شدت پسند تنظیموں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔"

اس حصے سے مزید

گلگت: سیاسی بحران سے سیاحت بھی متاثر

سیاسی بے یقینی کے باعث 10 ستمبر سے شروع ہونے والا سلک روٹ انٹرنیشنل فیسٹیول منسوخ کردیا گیا۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس فورس کو نفسیاتی دھچکا

ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو کے مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچنے سے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Gharib
23 جنوری, 2013 21:26
TTP ke salahiyat ke baare main sub jaante hain. Un ko Pakistan main aahista aahista mithaaya jaa raha hain aur apna zinda rehne ke lye, Kashmir ke peeche padna chaahte hain. Al Qaida par bhee Afghanistan se nikal jaane ke baad aise hee hua tha aur woh hamaare mulk main aa kar chup bhee gaye aur hum par badbakhtiyan bhee laaya. Ab TTP bhee Kashmir main wahee karna chaahta hai.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔