23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

طالبان کا کشمیرمیں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عزم

ترجمان تحریک طالبان پاکستان احسان اللہ احسان۔ فائل فوٹو۔۔۔

پشاور: پاکستانی طالبان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کشمیر میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ریاستی دہشت گردی رکوائے بصورت دیگر ٹی ٹی پی خود بھی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بدھ کے روز ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے حمایت یافتہ دہشت گردی کے ٹھکانوں سے متعلق ہندوستانی وزیر داخلہ کا بیان اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ معصوم کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کیلئے ہندو انتہا پسندوں کو ریاستی سرپرستی میں پالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "ہندوستانی وزیر کے بیان کے بعد امریکہ اور اقوام متحدہ کو ان ٹھکانوں پر ڈرون حملوں سمیت اتحادی افواج کے ذریعے چڑھائی کرنی چاھئیے۔"

احسن کا مزید کہنا تھا کہ، "اگر امریکہ اور اقوام متحدہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کی کاروائیاں نہیں رکواسکتے تو ٹی ٹی پی اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کام کو خود سرانجام دے سکے۔"

یاد رہے ہندوستانی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے اتوار کے روز اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی حمایتی آر ایس ایس پر ہندو دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انکے مطابق ان کاروائیوں کی وجہ سے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ سمیت مسلمانوں کیخلاف دوسرے واقعات رونما ہوئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن نے کشمیر میں موجودہ جہاد کو محظ ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کیلئے عملی جہاد کی ضرورت پر زور دیا۔

کشمیر میں دیشت گردی کے ٹھکانوں پہ حملوں کے آغاز کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ، "جلد ہی سب جان جائینگے کہ ٹی ٹی پی کتنی باصلاحیت ہے اور کسطرح ریاستی دہشت گردی اور ہندو شدت پسند تنظیموں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔"

اس حصے سے مزید

دو سال کے لیے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے، الطاف حسین

لندن میں گورنر پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران متحدہ کے قائد نے کہا کہ ثالثی کے لیے چوہدری سرور مناسب شخصیت ہیں۔

پشاور: صدر روڈ پر دھماکا، متعدد افراد زخمی

ڈان نیوز کے مطابق دھماکے میں سیکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا اجلاس: نواز شریف، اوباما ملاقات نہیں ہوگی

وزیراعظم کل نیویارک کے لیے روانہ ہوں گے، ان کے اس دورے کو انتہائی کم اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Gharib
23 جنوری, 2013 21:26
TTP ke salahiyat ke baare main sub jaante hain. Un ko Pakistan main aahista aahista mithaaya jaa raha hain aur apna zinda rehne ke lye, Kashmir ke peeche padna chaahte hain. Al Qaida par bhee Afghanistan se nikal jaane ke baad aise hee hua tha aur woh hamaare mulk main aa kar chup bhee gaye aur hum par badbakhtiyan bhee laaya. Ab TTP bhee Kashmir main wahee karna chaahta hai.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-