03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ممبئی حملے: ماسٹر مائنڈ کو دی گئی سزا ناکافی قرار

ڈیوڈ ہیڈلی کے وکیل رپورٹرز سے بات چیت کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی۔۔۔

نئی دہلی: ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے امریکی شہری کو 35 سال قید سے بھی زیادہ سخت سزا دینے چاہیے تھی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

چکاگو میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران باون سالہ ڈیوڈ ہیڈلی نے امریکی حکام سے تعاون کرتے ہوئے ممبئی حملوں کے اہداف کا تعین کرنے کا اعتراف کیا تھا اور اسی کے باعث وہ موت کی سزا سے بچ پائے تھے اور انہیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ہندوستانی ٹی وی کو بتایا کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم اس کو مزید سخت سزا دیتے لیکن جج امریکہ میں انصاف کی فراہمی کے قوانین پر عمل درآمد کے پابند تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو محض ابتدا ہے، اس سے یہ پیغام پہنچانے میں مدد ملے گی کہ اس طرح کی کارروائیاں ہرگز برداشت نہیں کی جائینگی۔

گزشتہ نومبر ہندوستان نے ممبئی حملوں کے پاکستانی نژاد ملزم اجمل قصاب کو پھانسی دیدی تھی۔

ہیڈلی کو حوالے کرنے کے مطالبے کے سوال پر سلمان خورشید نے کہا کہ ہندوستان، امریکہ سے مسلسل ہیڈلی کو حولے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

امریکی حکام کیس میں تعاون کرنے کے باعث ہیڈلی کو حوالے پر تیار نہیں ہیں، ہیڈلی کو 2009 میں شکاگو سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ فلائٹ سے پاکستان کیلیے روانہ ہونے والے تھے۔

امریکی حکام نے کورٹ کو بتایا کہ ہیڈلی نے حکام سے تعاون کیا اور عسکریت پسند گروہ لشکر طیبہ کے حوالے سے اہم تفصیلات کی تھیں، ہندوستان نے لشکر طیبہ کو ان حملوں کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

اس حصے سے مزید

کشمیر: ہندوستانی فوج کا 3عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ہندوستانی فورسزکے ترجمان اوایس چاکرکے مطابق شمالی راج پورہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی

ہندوستانی ریاست میں جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد

ہماچل پردیش میں ہرسال ہندو خداؤں کوخوش کرنےکیلئےبکریوں اوربھیڑوں کوقربان کرتے ہیں جسے عدالت نے 'وحشیانہ' قرار دیا ہے۔

پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات کا 'تماشہ' بنا دیا، مودی

پاکستان کی جانب سے ہمارے مذاکرات سے متعلق اقدامات کا تماشہ بنانے پر مایوسی ہوئی، ہندوستانی وزیراعظم


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔