24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

موجودہ ٹیکس نظام سے ملک نہیں چل سکتا، ایف بی آر

۔— فائل فوٹو
۔— فائل فوٹو

لاہور: فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجدہ کمزور نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ٹیکس ملکی نظام کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس لاکھ پاکستانیوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے، بیرون ملک سفر کرنے والے یہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے مزید کہا کہ اٹھاہ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام سے پاکستان جیسا ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اکتیس لاکھ امیر شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے خبردار کیا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پچھتر دنوں کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کے علاوہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

ملتان: این اے 149 کے لیے بلاول نے امیدوار نامزد کردیا

اس اعلان سے ان افواہوں کی تردید ہو گئی جن میں کہا جارہا تھا کہ پی پی پی جاوید ہاشمی کے مقابل اپنا امیدوار نہیں لائے گی۔

گورنر پنجاب کا شریف برادران سے اختلافات کی تردید

میں مستعفی نہیں ہورہا، اس حوالے سے رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ لندن سے واپسی پر میں استعفیٰ دے دوں گا۔

راولپنڈی: مذہبی پیشوا کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات کے زخم پھر تازہ

اس قتل کے ردّعمل میں ہجوم نے ایک امام بارگاہ کو نذرِ آتش کردیا، پولیس مبینہ طور پر اس واقعے کے دو گھنٹے بعد پہنچی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔