24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

موجودہ ٹیکس نظام سے ملک نہیں چل سکتا، ایف بی آر

۔— فائل فوٹو
۔— فائل فوٹو

لاہور: فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجدہ کمزور نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ٹیکس ملکی نظام کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس لاکھ پاکستانیوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے، بیرون ملک سفر کرنے والے یہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے مزید کہا کہ اٹھاہ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام سے پاکستان جیسا ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اکتیس لاکھ امیر شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے خبردار کیا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پچھتر دنوں کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کے علاوہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے

آزادی مارچ، پی ٹی آئی کا حکمت عملی پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک رسمی طور پر پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ایک فراموش کردہ یادگار اپنی بحالی کی منتظر

ملتان میں حضرت سلطان باہوؒ کے ایک عقیدت مند بزرگ حضرت دلیر باہوؒ کے مزار کی بحالی کے لیے فنڈزکا انتظار ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-