24 اگست, 2014 | 27 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

موجودہ ٹیکس نظام سے ملک نہیں چل سکتا، ایف بی آر

۔— فائل فوٹو
۔— فائل فوٹو

لاہور: فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجدہ کمزور نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ٹیکس ملکی نظام کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس لاکھ پاکستانیوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے، بیرون ملک سفر کرنے والے یہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے مزید کہا کہ اٹھاہ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام سے پاکستان جیسا ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اکتیس لاکھ امیر شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے خبردار کیا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پچھتر دنوں کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کے علاوہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

مدت پوری کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، آصف زرداری

سابق صدر نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کی رنجشیں مذاکرات سے دور ہو سکتی ہیں، سازشیں سیاست کا حصہ ہوتی ہیں۔

زرداری ۔ نواز ملاقات: وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد

رائے ونڈ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔

بلوبٹ سمیت ن لیگ کے 18 کارکنوں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

بلوبٹ نے شاہ محمود قریشی کے گھر پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی، اور کہا کہ وہ کارکنوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔