01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

موجودہ ٹیکس نظام سے ملک نہیں چل سکتا، ایف بی آر

۔— فائل فوٹو
۔— فائل فوٹو

لاہور: فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجدہ کمزور نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ٹیکس ملکی نظام کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس لاکھ پاکستانیوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے، بیرون ملک سفر کرنے والے یہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے مزید کہا کہ اٹھاہ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام سے پاکستان جیسا ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اکتیس لاکھ امیر شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے خبردار کیا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پچھتر دنوں کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کے علاوہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

رحیم یار خان: ماں بیٹی کو تیزاب سے جھلسا دیا گیا

پولیس نے آمنہ کے سابق شوہر احمد سمیت چار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کردی ہے۔

ق لیگ، طاہر القادری پی ٹی آئی مارچ میں شامل ہو سکتے ہیں

ڈاکٹر قادری چوہدری شجاعت کے ذریعے پی ٹی آئی اور اپنے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے حتمی نتائج کے منتظر۔

تمام غیر قانونی تقرریاں منسوخ کی جائیں: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مختلف اداروں کے سربراہوں کی تقرریوں پر اعتراضات اُٹھائے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔