03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

موجودہ ٹیکس نظام سے ملک نہیں چل سکتا، ایف بی آر

۔— فائل فوٹو
۔— فائل فوٹو

لاہور: فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ موجدہ کمزور نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ٹیکس ملکی نظام کو چلانے کے لیے ناکافی ہے۔

ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت  کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتیس لاکھ پاکستانیوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے، بیرون ملک سفر کرنے والے یہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے مزید کہا کہ اٹھاہ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام سے پاکستان جیسا ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اکتیس لاکھ امیر شہریوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔

ارشد نے خبردار کیا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پچھتر دنوں کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کے علاوہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں گے۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

'حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا'

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ قوم کو سیاسی بحران پر تشویش ہے اور وہ مسئلے کا فوری حل چاہتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔