03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی پی پی صوبے کے قیام میں مخلص نہیں، مسلم لیگ ن

قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان۔ فائل فوٹو۔
قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان۔ فائل فوٹو۔

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان نے بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے کے حکومتی اعلان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) صوبے کے قیام میں مخلص نہیں۔

اتوار کو ڈان نیوز کے مطابق، چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری سوداگری کے ماہر ہیں تاہم نیا صوبہ بنانا سوداگری یا لین دین نہیں ہے ۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ  گورنر پنجاب نے بہاولپور کے عوام کا سودا کیا ہے، بہاولپور صوبے کی علیحدہ قرارداد منظور ہوچکی ہے،

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک کے حالات گھمبیر ہیں، موجودہ مسائل نئے صوبوں کے قیام سے حل نہیں ہو سکتے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ن لیگ کی اکثریت کے باوجود  صوبے بنانے کیلیے کمیشن کی تشکیل سے متعلق مشاورت نہیں کی گئی بلکہ خود ساختہ قومی کمیشن بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق کمیشن وفاق نے نہیں بلکہ صدر زرداری نے بنایا جس کا وہ اختیار  نہیں رکھتے۔

ان کے مطابق، صدر زرداری کے اسٹاف آفیسر کو قومی کمیشن کا چیئرمین بنادیا گیا اور کمیشن میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے اراکین لیے گئے جن کا پنجاب میں ایک کونسلر بھی نہیں ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے اس امید کا اظہار کیا کہ نگران وزیراعظم غیرجانبدار ہوگ۔

انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے انتخاب کے لیے تحریک انصاف سے بھی مشاورت کریں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کرپٹ، نادہندہ اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

آصف زرداری ملکی سیاسی بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے خواہشمند

آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں قیام کرکے صورتحال کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Israr Muhammad
27 جنوری, 2013 17:27
نئے صوبے اور سیاست آجکل ملک میں نئی صوبوں کا بہت زکر هے هر طرف هر جانب اس پر بحث هورهی هے ان دنوں اسکا ذکر صرف سیاسی نعرہ کے طور پر هورها هے اسکے سوا کچھ نہیں باقی صوبوں کے ان صوبوں یا صوبہ کی حمایت صرف اسلئے کرهی هے کۂ پنجاب کی بالادستی کو حتم کیا جاسکے اور پی پی اسکو پی م ن کو کارنر کرنے کیلئے استعمال کرنا چاهتی هے یۂ صرف ایک سیاسی نعرہ هے البتہ اگر صوبہ بہاولپور کا دبارہ احیاء کیا جائے تو یه ایک اصولی اور عوام کو قابل قبول هوگا کیونکہ بہاولپور کی ایک تاریخی حیثیت تھی اور ایک خودمختار ریاست تھی لسانی بنیادوں پر صوبہ کا قیام ایک تباہ کن فیصلہ هوگا صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی اس مطالبہ کا نکتہ آغاز تھا لیکن یاد رکھیں که صوبہ سرحد کا صرف نام تبدیل هوا تھا نیا صوبہ نہیں
israr
29 جنوری, 2013 11:34
نئے صوبے اور سیاست آجکل ملک میں نئی صوبوں کا بہت زکر هے هر طرف هر جانب اس پر بحث هورهی هے ان دنوں اسکا ذکر صرف سیاسی نعرہ کے طور پر هورها هے اسکے سوا کچھ نہیں باقی صوبوں کے ان صوبوں یا صوبہ کی حمایت صرف اسلئےکر رهی هے کۂ پنجاب کی بالادستی کو حتم کیا جاسکےاور پی پی اسکو پی م ن کو کارنر کرنےکیلئے استعمال کرنا چاهتی هے یۂ صرف ایک سیاسی نعرہ هے اور پی پی اسکو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کریگی کیونکہ اس کی موجودۂ حکومت پاکستان کی بدترین کرپٹ ترین ناگام ترین حکومت هے عوام کے پاس جانے کیلئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں یاد رہے که پنجاب کی موجوده حکومت نسبتآ بہتر هے اس وجہ سے پی پی اس کو خطره مانتی هے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔