03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

عاصمہ جہانگیر بطور نگراں وزیراعظم قبول نہیں،عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوامی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو اے پی۔۔۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوامی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو اے پی۔۔۔

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو عاصمہ جہانگیر بطور نگران وزیراعظم قبول نہیں۔

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان مک مکا ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا پل کبھی نہ بننے کے لیے ٹوٹ چکا ہے جو تحریک انصاف اور ن لیگ کو ملا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے کیبجائے تحریک انصاف علیحدہ احتجاج کرے گی۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ صوبہ جنوبی پنجاب 'الیکشن اسٹنٹ' کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اس موقع پر انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے استعفٰی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انکی موجودگی میں شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کے مستعفی ہوتے ہی چیئرمین سینیٹ کا صدر بننا پی ٹی آئی کیلیے قابل قبول ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی اور الیکشن جیت کر دکھائے گی۔

اس حصے سے مزید

بہتر طرز حکمرانی میں پنجاب تمام صوبوں پر بازی لے گیا

چاروں صوبوں میں پنجاب سب سے آگے ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے نمبر پر خیبرپختونخواہ ہے۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔