17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا ختم

۔۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔۔فائل فوٹو۔

کراچی: چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی یقین دہانی کے بعد کراچی میں صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تین روزہ احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر نے منگل سے کراچی میں ووٹوں کی تصدیقی عمل میں فوج اور ایف سی اہلکاروں کو شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں میں فوج کی تعیناتی کے مطالبے کیساتھ احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ جب تک کراچی میں حلقہ بندیوں اور انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں میں فوج کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

دھرنے سے جعیت علماء اسلام ف کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ این آر او زدہ حکمران صاف اور شفاف انتخابات کے حق میں نہیں ہیں جبکہ عدالت عظمٰی کے احکامات کو نظر انداز کیاجارہا ہے۔

 دوسری جانب ایم کیوایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد نے فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی اور انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟