18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا ختم

۔۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔۔فائل فوٹو۔

کراچی: چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی یقین دہانی کے بعد کراچی میں صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تین روزہ احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر نے منگل سے کراچی میں ووٹوں کی تصدیقی عمل میں فوج اور ایف سی اہلکاروں کو شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں میں فوج کی تعیناتی کے مطالبے کیساتھ احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ جب تک کراچی میں حلقہ بندیوں اور انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں میں فوج کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

دھرنے سے جعیت علماء اسلام ف کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ این آر او زدہ حکمران صاف اور شفاف انتخابات کے حق میں نہیں ہیں جبکہ عدالت عظمٰی کے احکامات کو نظر انداز کیاجارہا ہے۔

 دوسری جانب ایم کیوایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد نے فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی اور انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

اس حصے سے مزید

'محکمہ تعلیم ایمپلائمنٹ ایکسچینج بن گیا ہے'

بچوں کی تعلیم پر منعقدہ کانفرنس میں ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کہا کہ ہمارے ہاں نوّے فیصد ٹیچرز غیر تربیت یافتہ ہیں۔

حکومت وی آئی پیز پر پوری سیکیورٹی لگا دیتی ہے، پروفیسر افتخار اعظمی

سندھ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ کے باعث کراچی پڑھے لکھے لوگوں سے محروم ہو جائے گا۔

جامعہ کراچی: شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر شکیل اوج کی گاڑی کو گلشن اقبال میں نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا، جامعہ کراچی تین دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔