31 اکتوبر, 2014 | 6 محرم, 1436
ڈان نیوز پیپر

ہندوستانی فنکاروں کا مہدی حسن کو خراج تحسین

Legendary playback singer Lata Mangeshka
میرے لیئے مہدی حسن کا درجہ ایشور جیسا ہے، لتا منگیشکر۔—اے ایف پی فوٹو

مہدی حسن کے انتقال پر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں پر افسردگی طاری ہے ۔ ہندوستان میں موسیقی سے وابستہ اہم شخصیات نے کہا ہے کہ مہدی حسن کا خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا۔

لتامنگیشکر دنیا بھر میں بلبلِ ہند کا خطاب پانے والی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کا درجہ ان کیلئے ایشور جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہدی حسن کے انتقال پر انہیں بہت صدمہ پہنچا ہے۔

لتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے مہدی حسن کی علالت کے دوران انہیں ٹیلی فون کیا لیکن وہ کسی کو پہچان نہیں پاررہے تھے۔

جاوید اختر بے شمار مقبول گیتوں اور غزلوں کے خالق جاوید اختر نے کہا کہ غزل کو مہدی حسن نے ایک نیا نکھار دیا۔

'مہدی حسن کسی کی گونج نہیں اپنی آواز تھے۔ان کا مقابلہ کسی سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔'

پنکج ادھاس

غزل گائیکی کے حوالے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پنکج ادھاس کا کہنا تھا : 'جگجیت سنگھ اور مہدی حسن تھے تو وہ سمجھتےتھے کہ فن کی دنیا میں ان کے بڑے موجود ہیں جن کے دامن میں انہیں سکھانے اور بتانے کیلئے بہت کچھ ہےلیکن اب دونوں نہیں رہےتو وہ تنہا محسوس کرنے لگے ہیں'۔

ہری ہرن

ہندوستان میں غزل گائیکی کے افق پر ایک اور دمکتے ستارے ہری ہرن نے کہا کہ انہیں اپنی چمک ماند پڑتی لگنے لگی ہےکیونکہ وہ مہدی حسن کو گرو مانتے تھے اور اب ان کا یہ گرو دنیا میں نہیں رہا۔

اس حصے سے مزید

مووی ریویو: اکیس توپوں کی سلامی - ایک عام آدمی کی کہانی

جہاں تمام عمر ایمانداری اور محنت مشقت کے بعد بھی وہ مقام نہیں ملتا جو ایک کرپٹ سیاستدان کو حاصل ہوتا ہے-

بولی وڈ اداکاروں کا جھاڑو

کاروباری، کھیل اور فلم کے ستاروں نے ہندوستان کوصاف کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

علی ظفر نے بگ بی کو کینوس پر اتارا

اچھے گلوکار و اداکار ہونے کے علاوہ انہیں پینٹنگ پر بھی عبور حاصل ہے اور بچپن سے ہی امیتابھ بچن کے مداح ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے

سلائیڈ شوز

قلم کار

سیاستدانوں کی تربیت

قوانین و ضوابط سے عدم واقفیت سیاستدانوں کی بڑی اکثریت کو بیوروکریٹس کے مشوروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

کشیدہ سرحدی تعلقات

ایران سےسرحدی جھڑپیں خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہیں خاص طور پرجب ہندوستان اور افغانستان کی سرحدوں پر تعلقات کشیدہ ہوں۔

بلاگ

مووی ریویو: اکیس توپوں کی سلامی - ایک عام آدمی کی کہانی

جہاں تمام عمر ایمانداری اور محنت مشقت کے بعد بھی وہ مقام نہیں ملتا جو ایک کرپٹ سیاستدان کو حاصل ہوتا ہے-

پکوان کہانی : میٹھے کی تھالی

کسی بھی قسم کی خوشی کا جشن اس وقت تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک لڈو کا ٹوکرا اس کا حصہ نہ ہو۔

سُدھار کی گنجائش اب بھی ہے

پاکستان نے طالبان کی سرپرستی کر کے بہت نقصان اٹھایا ہے لیکن اگر کوشش کی جائے، تو اب بھی سدھار کی گنجائش موجود ہے۔

لاوارث کیک

اس وقت پاکستان کی حالت اس کیک جیسی ہوگئی ہے جسے کھانے کے لیے چاروں طرف سے ٹوٹ پڑا جائے، اور کسی کے ہاتھ کچھ نا آئے۔