25 اکتوبر, 2014 | 29 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندوستانی فنکاروں کا مہدی حسن کو خراج تحسین

Legendary playback singer Lata Mangeshka
میرے لیئے مہدی حسن کا درجہ ایشور جیسا ہے، لتا منگیشکر۔—اے ایف پی فوٹو

مہدی حسن کے انتقال پر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں پر افسردگی طاری ہے ۔ ہندوستان میں موسیقی سے وابستہ اہم شخصیات نے کہا ہے کہ مہدی حسن کا خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا۔

لتامنگیشکر دنیا بھر میں بلبلِ ہند کا خطاب پانے والی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کا درجہ ان کیلئے ایشور جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہدی حسن کے انتقال پر انہیں بہت صدمہ پہنچا ہے۔

لتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے مہدی حسن کی علالت کے دوران انہیں ٹیلی فون کیا لیکن وہ کسی کو پہچان نہیں پاررہے تھے۔

جاوید اختر بے شمار مقبول گیتوں اور غزلوں کے خالق جاوید اختر نے کہا کہ غزل کو مہدی حسن نے ایک نیا نکھار دیا۔

'مہدی حسن کسی کی گونج نہیں اپنی آواز تھے۔ان کا مقابلہ کسی سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔'

پنکج ادھاس

غزل گائیکی کے حوالے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پنکج ادھاس کا کہنا تھا : 'جگجیت سنگھ اور مہدی حسن تھے تو وہ سمجھتےتھے کہ فن کی دنیا میں ان کے بڑے موجود ہیں جن کے دامن میں انہیں سکھانے اور بتانے کیلئے بہت کچھ ہےلیکن اب دونوں نہیں رہےتو وہ تنہا محسوس کرنے لگے ہیں'۔

ہری ہرن

ہندوستان میں غزل گائیکی کے افق پر ایک اور دمکتے ستارے ہری ہرن نے کہا کہ انہیں اپنی چمک ماند پڑتی لگنے لگی ہےکیونکہ وہ مہدی حسن کو گرو مانتے تھے اور اب ان کا یہ گرو دنیا میں نہیں رہا۔

اس حصے سے مزید

ڈرامہ ریویو: فراق

ایک ایسی کہانی جس میں ایک بے وفائی کی سزا پورے خاندان کو بھگتنی پڑتی ہے۔

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

برصغیر کے معروف شاعر ساحر لدھیانوی کو پرستاروں سے بچھڑے 34 برس بیت گئے۔

سلمیٰ ہائیک کی پاکستانی تعلیم پر دستاویزی فلم

حمیرا بچل کی زندگی پر مبنی یہ فلم خواتین کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی مہم کا حصہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے

سلائیڈ شوز

قلم کار

بدصورت چہرہ

ترقی پسندوں کو انسدادِ دہشتگردی قوانین کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دایاں بازو دہشتگردی کرنے میں آزاد ہے۔

پاکستان کے لیے لائن آف کنٹرول کی اہمیت

پاکستان کو چاہیے کہ اپنے سرکاری نقشوں میں کنٹرول لائن کو واضح طور پر دکھائے، اور اس کی عارضی حیثیت کو بھی واضح رکھے۔

بلاگ

روسی انقلاب کا سبق

97 سال پہلے آنے والے اس سوشلسٹ انقلاب نے دنیا کو تیزی سے بدلنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن یہ حرفِ آخر نہیں تھا۔

اسکول نا کھپے!

پاکستانی چاہے پاکستان میں رہتے ہوں یا دنیا کے کسی اور کونے میں، مذہب، قوم، اور زبان کے نام پر تفریق اور تعصب ہر جگہ ہے۔

بلاوجہ بھٹوازم

بلاول کو چاہیے کہ اپنے نانا کے قریبی ساتھیوں سے بھٹوازم کی روح کو سمجھیں، ورنہ نعرے بازی والا بھٹوازم استعمال نہ کریں۔

ڈرامہ ریویو: فراق

ایک ایسی کہانی جس میں ایک بے وفائی کی سزا پورے خاندان کو بھگتنی پڑتی ہے۔