23 اکتوبر, 2014 | 27 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندوستانی فنکاروں کا مہدی حسن کو خراج تحسین

Legendary playback singer Lata Mangeshka
میرے لیئے مہدی حسن کا درجہ ایشور جیسا ہے، لتا منگیشکر۔—اے ایف پی فوٹو

مہدی حسن کے انتقال پر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں پر افسردگی طاری ہے ۔ ہندوستان میں موسیقی سے وابستہ اہم شخصیات نے کہا ہے کہ مہدی حسن کا خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا۔

لتامنگیشکر دنیا بھر میں بلبلِ ہند کا خطاب پانے والی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کا درجہ ان کیلئے ایشور جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہدی حسن کے انتقال پر انہیں بہت صدمہ پہنچا ہے۔

لتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے مہدی حسن کی علالت کے دوران انہیں ٹیلی فون کیا لیکن وہ کسی کو پہچان نہیں پاررہے تھے۔

جاوید اختر بے شمار مقبول گیتوں اور غزلوں کے خالق جاوید اختر نے کہا کہ غزل کو مہدی حسن نے ایک نیا نکھار دیا۔

'مہدی حسن کسی کی گونج نہیں اپنی آواز تھے۔ان کا مقابلہ کسی سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔'

پنکج ادھاس

غزل گائیکی کے حوالے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پنکج ادھاس کا کہنا تھا : 'جگجیت سنگھ اور مہدی حسن تھے تو وہ سمجھتےتھے کہ فن کی دنیا میں ان کے بڑے موجود ہیں جن کے دامن میں انہیں سکھانے اور بتانے کیلئے بہت کچھ ہےلیکن اب دونوں نہیں رہےتو وہ تنہا محسوس کرنے لگے ہیں'۔

ہری ہرن

ہندوستان میں غزل گائیکی کے افق پر ایک اور دمکتے ستارے ہری ہرن نے کہا کہ انہیں اپنی چمک ماند پڑتی لگنے لگی ہےکیونکہ وہ مہدی حسن کو گرو مانتے تھے اور اب ان کا یہ گرو دنیا میں نہیں رہا۔

اس حصے سے مزید

'مشن فائیو' شان کا اگلا پراجیکٹ

لولی وڈ اسٹار ایک بار پھر اسکرین پر نظر آئیں گے اور یہ پہلی بار ہے کہ انہوں نے کسی فلم کا اسکرین پلے تحریر کیا ہے۔

علی گل پیر آئندہ برس شادی کے لیے تیار

میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے کسی سے ملنے اور اس کی محبت میں گرفتار ہونے کا موقع ملا۔

شاہ رخ کی نئی فلم 'اوشین 12' کا چربہ، شان

ہندوستان والوں کو سمجھنا ہو گا کہ اب ان کے پاس اچھے سکرپٹ نہیں بچے، پاکستانی اداکار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے

سلائیڈ شوز

قلم کار

رک رک کر سفر

یہ صورتحال پی ٹی آئی کے پھیلاﺅ کے لیے بہترین ہے جبکہ پی اے ٹی بھی وسیع معاونت کا اظہار کرسکے گی۔

کچھ حل

افرادی قوت اور وسائل عسکریت پسندی مٹانے کیلیے کافی نہیں بلکہ مشنری جوش، تیاری، جدت اور عوامی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔

بلاگ

متنازع زخم

جابر بن حیان کی کیمیا سے لے کر ملالہ یوسفزئی کے زخم تک، ہم ہر چیز کو متنازعہ بنانے میں کمال رکھتے ہیں۔

ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز۔۔۔ پاکستان کیوں ناکام؟

ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں پندرہ سال پہلے تھے۔ مسائل کا انبار ہے جن کو حل کرنے کے لیے عزم اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

بلاول: جذبہ نیا، پالیسی پرانی؟

بلاول کی تقریر اور ان کے والد کے موقف میں کافی فرق نظر آیا۔ لگتا ہے کہ ان کا آئیڈیلزم "سینیئرز" کے سامنے جھک جائے گا۔

آپریشن ضرب عضب اور چچا عبدل

ہزارہ برادری کے افراد یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپریشن کے باوجود بلوچستان میں حالات ٹھیک کیوں نہیں ہورہے۔