17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایدھی کو طالبان سے 'خطرہ' لاحق

عبدل ستار ایدھی۔ ڈان ڈاٹ کام فوٹو

کراچی: پاکستان کے مایہ ناز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو طالبان کے جانب سے مبینہ خطرے کے پیش نظر ہمّہ وقت سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے ۔

ایک سرکاری عہدے دار نے خبر رساں ادارے کو نام نہ ظاہر کی شرط پر بتایا کہ ایدھی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے خطرہ لاحق ہے، وہ انہیں اغوأ کرکے ان کے بدلے عسکریت پسندوں کو چھڑانا چاہتے ہیں۔

عہدے دار نے مزید بتایا کہ ایدھی کو پانچ جون سے دو مسلح پولیس اہلکارفراہم کر دیئے گئے ہیں۔

ایک سینئر پولیس افسر اسلم خان نے بتایا کہ  ہٹ لسٹ پر مشتمل ایک خط پکڑا گیا تھا جس میں ایدھی کےساتھ ساتھ دو پولیس افسران کے نام بھی شامل تھے جن میں وہ خود بھی ہیں۔

پچاسی سالہ ایدھی نے کہا کہ انھوں نے سیکیورٹی کو قبول تو کرلیا ہے لیکن وہ فلاحی کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ایدھی کے بیٹے فیصل کے مطابق طالبان چھ جون کو ان کے والد سے ملنے ان کے دفتر آئے تھے اور انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ان کا ہدف نہیں ہیں۔

فیصل نے کہا کہ طالبان نے ان کے والد کو قابلِ احترام  قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے فلاحی کاموں کی قدر کرتے ہیں ۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

جاوید اقبال
18 جون, 2012 20:47
کمال ہے ایدھی صاحب کو ١٩٨٨ میں بھی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے یہی کہکر ڈرایا اور اس کی خوب تشہیر بھی کی تھی
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟