23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سویلین حکومت پر بد اعتمادی انتہا پر'

survey

واشنگٹن: ایک گیلپ سروے کے مطابق پاکستانی عوام کا امریکہ کی اتحادی حکومت پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے تاہم فوج پر ان کا اعتبار برقرار ہے۔

سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ امریکی قیادت بانوے فیصد پاکستانیوں میں غیر مقبول ہے جبکہ پچپن فیصد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مسلمانوں اور مغربی معاشرے میں زیادہ نزدیکیاں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق ' پاکستان کی حکومت پرعوامی اعتماد میں انتہائی تیزی سے کمی آئی ہے اور یہ بد اعتمادی مارچ اور اکتوبر 2012 میں انتہائی کم ہوتے ہوئے تئیس فیصد تک رہ گئی ہے۔

جمہوری طور پر منتخب ہونے والی صدر آصف علی زرداری کے ابتدائی دور حکومت یعنی دسمبر 2008 میں یہی شرح چوون فیصد تھی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کی کسی بھی سویلین حکومت پرعوامی اعتماد کی انتہا (اٹھاون فیصد) 2006 میں دیکھنے میں آئی تھی۔

دو ہزار آٹھ میں یہ شرح کم ہو کر چوون فیصد 2010 میں اکتیس جبکہ 2012 میں یہ محض تئیس فیصد رہ گئی۔

اس کے برعکس، آزادی کے بعد سے پاکستان کے سیاسی معاملات میں بار بار مداخلت کرنے اور تقریباً تیس سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والی فوج پر اٹھاسی فیصد عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

دو ہزار چھ میں فوج پرعوامی اعتماد چوراسی فیصد تھا جو 2008 کے آخر تک کم ہوتے ہوتے چوہتر فیصد رہ گیا۔

دو ہزار بارہ کے وسط تک اس شرح میں چار فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ گزشتہ سال کے اختتام تک یہ شرح اٹھاسی فیصد ہو گئی۔

امریکہ میں معتبر سمجھے جانے والے گیلپ نے یہ سروے پاکستان میں تیس ستمبر اور سولہ اکتوبر 2012 کے درمیانی عرصے میں کیا تھا۔

یہ سروے ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب امریکہ میں اسلام مخالف بنائی جانے والی فلم پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پراحتجاج ختم ہوئے تھے۔

سروے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات پاک –امریکہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی ہلچل کا باعث ہو سکتے ہیں۔

سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ملک میں آئندہ ایسی حکومت بھی آ سکتی ہے جو امریکی مفادات کی جانب زیادہ جارحانہ رویہ رکھتی ہو۔

سروے کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اندر حد سے زیادہ آپریشن کیے جانے کی وجہ سے موجودہ حکومت کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ چکی ہے اور امریکی اور پاکستانی قیادت کی عوام میں غیر مقبولیت کا نوٹس نہ لیا جانا ممکن نہیں ہے۔

سروے کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود پاکستانی عوام ملکی تاریخ میں بار بار مداخلت کرتی آئی فوج پر اعتماد کرتی ہے۔

سروے نتائج کے مطابق ان رجحانات کے آئندہ انتخابات پر اثرات تو غیر واضح ہیں لیکن ان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اگلے چند مہینے پاکستانی حکومت  اور پاک – امریکہ تعلقات کے استحکام کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ بارک اوباما کے پہلے دور صدارت میں امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات تناؤ بھرے تھے جس کی وجہ سے بانوے فیصد پاکستانی عوام امریکی قیادت سے نالاں تھی اور محض چار فیصد اسے درست سمجھتی تھی۔

اس کے علاوہ پچپن فیصد اکثریت مسلمانوں اور مغربی معاشروں میں میل جول کو خطرناک تصور کرتی ہے۔ 2011 میں یہ شرح انتالیس فیصد تھی۔

پاکستانی آبادی کا تقریباً نصف (49 فیصد) پندرہ سے انتیس سال کے درمیان ہے اور نوجوان پاکستانیوں کی اکثریت میں مغرب مخالف جذبات سے ظاہر ہوتا ہے آئندہ آنے والے وقتوں میں اس نسل کے پاکستانی حکومت کے امور میں بڑھتے کرادر کے بعد پاک – امریکہ تعلقات کو مستقبل میں بھی چیلنجز کا سامنا ہی رہے گا۔

اس حصے سے مزید

عمران خان لوگوں کو خدمت کی طرف راغب کریں، پرویز رشید

یہ وقت لانگ مارچ کا نہیں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات۔

شوال میں فضائی حملوں کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا، سیفران

شمالی وزیرستان طرز کا آپریشن کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی شروع کیا جائے گا، عبدالقادر بلوچ۔

'ضرب عضب میں تمام عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے'

ضرب عضب میں اس لعنت (عسکریت پسندی) کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے، سر تاج عزیز۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Iqbal Burma
17 فروری, 2013 16:57
its true some extent, but the contention point is that people hate US policies but not American people.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

پاکستان کے عام آدمی کا احوال

پڑھے لکھے نوجوان جو پاکستان کے چھوٹے شہروں میں رہتے ہیں وہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں

بلاگ

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔

تحریکِ انصاف سے معذرت کے ساتھ

عمران خان کو ملکی اداروں پر تو اعتماد نہیں، تو پھر کیا پی ٹی آئ افغانستان کی طرح "انٹرنیشنل آڈٹ" چاہتی ہے؟

قومی شناختی کارڈ اور گونگا مصلّی -- 3

پورے پنجاب کے دیہی علاقوں میں وارداتوں کے بعد شک کی بنا پر سب سے زیادہ پکڑی جانے والی قوم مصلّیوں کی ہے۔